پاکستان میں آن لائن فراڈ کی شکایت کیسے کریں

آخری اپڈیٹ:

اگر آپ کے ساتھ کسی بیٹنگ ایپ، جعلی ایجنٹ یا آپ کا والیٹ قبضے میں لینے والے نے دھوکہ کیا ہے، تو اطلاع دینے سے آپ کی بھی مدد ہوتی ہے اور دوسرے لوگ بھی بچتے ہیں۔ اس ترتیب سے چلیں۔

پہلا قدم: رک جائیں اور ثبوت محفوظ کریں

دوسرا قدم: اپنے والیٹ یا بینک سے رابطہ کریں

اپنی والیٹ یا بینکنگ ایپ کے اندر دی گئی آفیشل ہیلپ لائن پر کال کریں۔ ٹرانزیکشن کو فراڈ کے طور پر رپورٹ کریں اور شکایت کا ریفرنس نمبر لیں۔ کون سی تفصیلات دینی ہیں، یہ والیٹ فراڈ والے صفحے پر دیکھیں۔

اگر بینک آپ کی شکایت حل نہ کرے تو آپ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شکایتی پورٹل (سنوائی) یا بینکنگ محتسب پاکستان تک لے جا سکتے ہیں۔

تیسرا قدم: سائبر کرائم کی اطلاع دیں

آن لائن فراڈ، ہیکنگ اور بلیک میلنگ پیکا 2016 کے تحت جرم ہیں۔ سائبر کرائم کی شکایات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) دیکھتی ہے، جس نے یہ کام ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے لیا ہے۔ شکایت کے لیے اس کی آفیشل ویب سائٹ یا ہیلپ لائن استعمال کریں اور اپنے ثبوت ساتھ لگائیں۔

چوتھا قدم: ویب سائٹ یا ایپ کی اطلاع دیں

غیر قانونی ویب سائٹس اور مواد کی اطلاع آپ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو اس کے آفیشل شکایتی پورٹل کے ذریعے دے سکتے ہیں، جو pta.gov.pk پر ہے۔ بالکل درست ویب ایڈریس یا ایپ کا نام لکھیں۔

اگر آپ کو بلیک میل کیا جا رہا ہے

"ریکوری ایجنٹس" سے ہوشیار رہیں

نقصان کے بعد اکثر کوئی رابطہ کرتا ہے جو فیس لے کر پیسے واپس دلوانے کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ عام طور پر دوسرا فراڈ ہوتا ہے۔ سرکاری ادارے شکایت درج کرنے کی کوئی فیس نہیں لیتے۔

عام سوالات

اگر میں نے بیٹنگ ایپ استعمال کی تھی تو کیا شکایت کرنے پر مجھے مسئلہ ہوگا؟
ہم کسی خاص معاملے پر قانونی مشورہ نہیں دے سکتے۔ عام طور پر فراڈ کی اطلاع دینا اور حکام سے تعاون کرنا درست قدم ہے۔ اگر فکر ہے تو پہلے کسی وکیل سے بات کر لیں۔
کیا شکایت کرنے کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں؟
نہیں۔ سرکاری اداروں کو شکایت مفت ہوتی ہے۔ جو شخص پیسے "ریکور" کرنے کی فیس مانگے وہ غالباً فراڈیا ہے۔